پاکستان میں حقیقی جمہوریت اور عوامی بیداری کا سفر کا تجزیہ
کسی بھی قوم کی آزادی کی بات کی جائے تو یہ سوال ہمیشہ اہم رہتا ہے کہ آزادی کا اصل مطلب کیا ہے؟ کیا صرف جھنڈا لہرا دینا آزادی ہے یا اپنے فیصلے خود کرنے کی طاقت کا نام آزادی ہے؟
یہ سوال آج ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے۔
پاکستان کیوں بنا تھا؟
ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان 14 اگست 1947 کو ایک عظیم جدوجہد کے بعد وجود میں آیا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ہمارے بزرگوں نے ایک ایسی ریاست کا خواب دیکھا تھا جہاں ہر شہری کو عزت، انصاف اور برابری ملے۔
وہ ایک غلامی سے نکل کر خودداری کی طرف سفر تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس اصل مقصد پر قائم رہ سکے؟
قائداعظم نے فرمایا تھا کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہوگی۔ یہاں کسی کی ذاتی حکومت نہیں بلکہ عوام کی حکومت ہوگی۔
٧٤سالہ سیاسی سفر سے ہم نے کیا سیکھا؟
گزشتہ 74 سالوں میں پاکستان نے کئی نشیب و فراز دیکھے۔ کبھی جمہوریت مضبوط ہوئی تو کبھی کمزور۔ اس پورے عرصے میں ایک بات مشترک رہی ہے کہ عوام ہمیشہ ایک بہتر نظام کی تلاش میں رہی ہے۔
عوام نے ہمیشہ یہ چاہا ہے کہ:
1.
ان کا پیسہ ان ہی کی فلاح پر خرچ ہو۔
2.
ٹیکس کا نظام شفاف ہو۔
3.
مہنگائی کم ہو اور عام آدمی کو ریلیف ملے۔
4.
ملک کے فیصلے ملک کے اندر ہوں۔
جب بھی عوام کو لگتا ہے کہ ان کے حقوق کا تحفظ نہیں ہو رہا، تو وہ باہر نکلتی ہے اور اپنی آواز بلند کرتی ہے۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔
عوامی جلسے اور جمہوری شعور۔
مئی 2022 میں ہم نے دیکھا کہ پاکستان کے تقریباً ہر بڑے شہر - کراچی، لاہور، میانوالی، ایٹ آباد، اٹک، جہلم، مردان، سیالکوٹ - میں لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے نکلے۔
یہ مناظر اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی عوام اب پہلے سے زیادہ باشعور ہو چکی ہے۔ اب وہ صرف سنتے نہیں، بلکہ سوال بھی کرتے ہیں۔
یہ جلسے کسی ایک پارٹی کے نہیں، بلکہ ایک سوچ کے جلسے تھے - خودداری کی سوچ۔ عوام یہ پیغام دینا چاہتی تھی کہ وہ اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے۔
ہماری معیشت اور مستقبل کا چیلنج۔
آج پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج معیشت ہے۔ جب ایک عام آدمی خون پسینے سے ٹیکس دیتا ہے، تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ پیسہ اس کے بچوں کی تعلیم، صحت اور ملک کی ترقی پر لگے۔
اگر وہ پیسہ ضائع ہو یا صرف چند مراعات یافتہ طبقوں کی آسائشوں پر لگے تو عوام میں مایوسی پھیلتی ہے۔
اس لیے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک ایسا معاشی نظام بنائیں جو خود کفیل ہو۔ ہم قرضوں کے بجائے اپنی پیداوار پر انحصار کریں۔
قیادت کیسی ہونی چاہیے؟
تاریخ بتاتی ہے کہ چور ڈاکو تو ہر دور میں ہوتے ہیں، لیکن ایسے لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جو اپنے ذاتی مفاد کے بجائے عوام کے مفاد کی فکر کریں۔
ایک اچھے لیڈر کی تین نشانیاں ہوتی ہیں۔
1.
وہ اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹس بھرنے کے بجائے قومی خزانے کی فکر کرے۔
2.
وہ خود کو نواب یا ابن نواب سمجھنے کے بجائے خود کو عوام کا خادم سمجھے۔
3.
وہ بیرونی دباؤ کے بجائے عوام کی طاقت پر بھروسہ کرے۔
مائیں ایسے سپوت روز روز نہیں جنتیں۔ جب کوئی ایسی قیادت سامنے آتی ہے تو قوم اس کی قدر کرتی ہے۔
اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
آج ہم ایک بہت نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ اگر ہم نے آج اپنی بقا کی جنگ نہ لڑی، اپنے اداروں کو مضبوط نہ کیا اور اپنے ملک کو معاشی طور پر مستحکم نہ کیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
اس لیے ہمیں جذبات سے نکل کر ہوش سے کام لینا ہوگا۔ ہمیں نفرت کی سیاست کو چھوڑ کر تعمیری سیاست کی طرف آنا ہوگا۔
یہ ملک کسی ایک خاندان یا کسی ایک پارٹی کی جاگیر نہیں۔ یہ 22 کروڑ عوام کا ملک ہے۔
جمہوریت کا مطلب ہے جمہور کی مرضی۔ جمہور کی مرضی ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیسا پاکستان چھوڑنا ہے؟ ایک ایسا پاکستان جو اپنے فیصلے خود کرے، جو خوددار ہو، جو خوشحال ہو۔
اس لیے آج ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر ایک بہتر، خوددار اور خوشحال پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
اس بارے میں...
ذرا نہیں
پورا سوچیں۔
اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔
پاکستان زندہ باد۔

MashaAllah zabardast
ReplyDelete👌👌👏
ReplyDelete